طیبہ گل سکینڈل پر انکوائری کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد۔ (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے طیبہ گل سکینڈل پر انکوائری کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، طیبہ گل نے سابق چیئرمین نیب کے خلاف شکایت کی تھی جس پر اسے 18 دن اغواء کر کے پی ایم ہائوس میں رکھا گیا، پی ٹی آئی حکومت نے طیبہ گل اسکینڈل پر چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا، کابینہ نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے تفصیلی فیصلے میں اٹھائے گئے نکات پر عمل درآمد، آرٹیکل 6 کی کارروائی سمیت مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تجاویز کی تیاری کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اہم قرارداد منظور کی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ سابق حکومت نے آئین شکنی کی، فیصلے کی روشنی میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر کے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔ کابینہ نے عالمی منڈی میں گندم کی گرتی ہوئی قیمت کے مطابق تین ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی، بندرگاہوں پر لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کے دو ہفتوں میں آنے والی لگژری اشیاء پر پانچ فیصد اور اس کے بعد آنے والی اشیاء پر 15 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔
جمعہ کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال پر غور ہوا، کابینہ نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور صوبائی حکومتوں کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دعا کی گئی اور ہدایت کی کہ ان کے لواحقین کو این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور صوبائی حکومتوں کے سروے کے بعد جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال میں افواج پاکستان، پولیس، پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے سمیت تمام اداروں کی کاوشوں کو سراہا گیا، کابینہ نے تمام امدادی اداروں کو فیلڈ میں متحرک رہنے اور لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 18.50 روپے، ڈیزل میں 40.54 روپے، کیروسین آئل میں 33.81 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 34.71 روپے کمی کا اعلان کیا جس کے بعد کابینہ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے لئے مکمل مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے تاکہ اس کمی کا پورا فائدہ عوام کو مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کئے، اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو منتقل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اسی وعدے کا تسلسل ہے جو وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے کیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کمزور بنیادوں اور سخت شرائط پر معاہدہ کیا، سابق حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے معاشی بارودی سرنگیں بچھائیں، جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے جا رہی ہے تو انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معطل معاہدے کو بحال کیا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایسا بجٹ پیش کیا جس میں عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ ملک کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ ممبران کو آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب معاہدہ ہونے پر مبارکباد دی اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کی ٹیم کو بھی اس سلسلے میں مکمل معاونت فراہم کرنے پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم کا یقین ہے کہ ملک اس معاشی بحران سے تب نکل سکتا ہے جب ملکی معیشت مستحکم ہوگی، ملک معاشی خودمختاری کی طرف تب جائے گا جب ہم اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا تھا، وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پاکستان کے لئے آخری آئی ایم ایف معاہدہ ثابت ہوگا کیونکہ خودانحصاری اور معاشی خودکفالت ہی ہمارا مطمعء نظر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم سنجیدگی سے اس پروگرام پر عمل کریں اور پاکستان کو معاشی خودانحصاری کی راہ پر گامزن کریں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سفارش پر مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ پاکستان میں مقیم غیر ملکی باشندوں کو پاکستان چھوڑنے کے لئے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دی۔ اس میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو گرفتار ہیں، ان پر جرمانہ اتنا زیادہ ہے کہ ان کے پاس ادائیگی کے لئے پیسے نہیں، اس اسکیم کے تحت 4 لاکھ 8 ہزار کے قریب پاکستان میں مقیم غیرملکی باشندوں کو 31 دسمبر 2022 ء تک پاکستان سے اپنے ملکوں میں روانگی کی مہلت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے وزارت اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر ایک مہم بھی چلائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 5 جولائی 2022 ء کے اجلاس میں پاکستان کے لئے 3 ملین ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے کی توثیق کی، گندم کی خریداری کے لئے قائم کابینہ کمیٹی کو عالمی منڈی میں گندم کی گرتی ہوئی قیمتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں میں لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگائے جانے کے بعد بندرگاہوں پر رکے تجارتی سامان کی کلیئرنس کا معاملہ شامل تھا۔
کابینہ نے اس سلسلے میں پابندی کے بعد دوہفتوں کے اندر آنے والے سامان کو 5 فیصد جبکہ اس کے بعد آنے والے سامان کو 15 فیصد ڈیوٹی ادا کرکے کلیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نجکاری ڈویژن نے کابینہ کو نجکاری پر قائم کابینہ کی سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس کی بنیاد پر کابینہ نے جی ٹو جی کمرشل ٹرانزیکشن آرڈیننس کی اصولی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، اس فیصلے میں اٹھائے گئے نکات پر عمل درآمد، آرٹیکل 6 کی کارروائی سمیت مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تجاویز کی تیاری کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
وزیرقانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں داخلہ، اطلاعات کے وفاقی وزراء کے علاوہ اتحادی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ یہ خصوصی کمیٹی اپنی تجاویز مرتب کرکے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔ کابینہ کی منظور کردہ قرارداد میں کہاگیا کہ آئین کی سربلندی پر مبنی عدالت عظمی کا تفصیلی فیصلہ قابل تحسین ہے جس نے نظریہ ضرورت کو دفن کردیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق حکومت اور اس کے عہدیداروں کے خلاف فرد جرم ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ سابق حکومت نے آئین شکنی کی۔
تحریک عدم اعتماد کے خلاف 3 اپریل 2022 ء کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو غیرآئینی اور قومی اسمبلی کی تحلیل کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے نے تمام حقائق پوری طرح واضح کردئیے ہیں کہ غیرملکی سازش کا بیانیہ من گھڑت ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا جس کے ذریعے وطن عزیز کی معاشی سلامتی کے ساتھ ساتھ اہم خارجہ مفادات کو بھی ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھانے کی سنگین کوشش کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ معزز عدالت نے بجا طور پر یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ اتنا ہی سنگین معاملہ ہوتا تو اس وقت کی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ بلکہ اس پر خاموشی اختیار کی۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اس سازشی بیانیہ کو ایک نہیں دو بار رد کیا۔ قرارداد میں اتفاق کیا گیا کہ بحیثیت قوم آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ اور عوام کے حق حکمرانی پر شب خون مارنے کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے روک دیا جائے۔ عدالت عظمی کا تفصیلی فیصلہ اس ضمن میں سنگ میل ہے لہذا متفقہ طور پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو عدالت کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں اقدامات تجویز کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں جنسی ہراسگی کا شکار خاتون طیبہ گل کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ طیبہ گل نے سابق حکومت کے پی ایم پورٹل پر اپنی شکایت درج کرائی اور انہیں جواب ملا کہ ان کی شکایت انسانی حقوق کی وزارت کو بھجوا دی گئی ہے، اس کے بعد پی ایم آفس نے طیبہ گل سے رابطہ کیا اور انہیں بلا کر ان کے مطابق 18 دن وزیراعظم ہائوس میں انہیں اغواء کر کے رکھا گیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے پی ایم پورٹل کی تشہیر ہم چار سال سنتے رہے، جنسی ہراسگی کا شکار خاتون نے اس پورٹل پر شکایت درج کرائی جس پر ایکشن کی بجائے انہیں 18 دن اغواء کر کے رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم آفس کی جانب سے طیبہ گل سے ثبوت لے کر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے، چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے سیاسی مقاصد پورا کرنے کا مکروہ دھندہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف جنسی ہراسگی کے سنجیدہ الزامات کی باضابطہ اور شفاف تحقیقات کے لئے کمیشن آف انکوائری کے قیام کی اصولی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو کمیشن کے ٹرم آف ریفرنسز اور اس کی سربراہی کے لئے تین افراد پر مشتمل پینل تجویز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن ”کمیشن آف انکوائریز ایکٹ 2017” کے تحت قائم کیا گیا ہے، کمیٹی اس انکوائری کے وقت کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہائوس اس جرم میں ملوث تھا، بلیک میلنگ کی گئی اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو خاتون شکایت لے کر آئی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن کے سربراہ کے بارے میں بھی خواتین کی شکایات موصول ہوئی ہیں، ان تمام شکایات کو بھی اس انکوائری کا حصہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ شخص جو ملک کا وزیراعظم تھا اور کہتا تھا کہ خواتین کا ریپ اس لئے ہوتا ہے کہ خواتین کپڑے صحیح نہیں پہنتی، اسی سوچ نے طیبہ گل کو وزیراعظم ہائوس کے اندر اغواء کر کے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کی جنسی ہراسگی کے بارے میں شکایت کو سابق حکمرانوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب موصوف روز جلسوں میں تقاریر کرتے ہیں، انہیں اپنے اعمال نامے دیکھنے چاہئیں، چار سال جو گند ڈال کر وہ گئے ہیں، اس پر انہیں آئینہ دیکھنا چاہئے۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس پر حملہ کیا جس کی سپریم کورٹ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طیبہ گل کے کیس کی انکوائری آزاد کمیشن کرے گا، جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف سزا کا فیصلہ انکوائری کمیشن کرے گا اور اس کے مطابق تمام فیصلے لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں ہماری جماعت کے لوگوں کے خلاف سیاسی انتقام لیا جاتا رہا۔ عدالتوں سے فیصلے آتے رہے کہ کوئی کرپشن نہیں ہوئی، انہوں نے نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا، سعد رفیق کے کیس میں بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا، شہباز شریف کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا اور اس کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی کا فیصلہ بھی آیا کہ کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈیوڈ روز جیسے لوگوں کو بلا بلا کر نیب اور ایف آئی اے کے ریکارڈ دکھائے، اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا، بہنوں بیٹیوں کو ہتھکڑیاں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے ریکارڈ کا حصہ ہیں جس میں کوئی کرپشن، کک بیکس اور اختیارات کا جائز استعمال نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ طیبہ گل کا کیس ناقابل معافی جرم ہے، ایک خاتون چیئرمین نیب کے خلاف شکایت کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس خاتون کو اغواء کر کے اس سے ثبوت حاصل کر کے چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کمیشن بالکل الگ ہے، یہ شفاف، آزادانہ اور خودمختار کمیشن ہوگا جو پاکستان کے عوام کے سامنے تمام حقائق پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن فیصلہ کرے گا کہ کون کون سے لوگ اس میں مجرم ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ٹیم ورک کا نتجہ ہے، وزارت خارجہ کی عالمی سطح پر کاوشیں ہوتی ہیں، ان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نے معاشی بحران کے دوران معطل شدہ آئی ایم ایف کے معاہدے کو بحال کیا اور ساتھ ہی ایسا بجٹ دیا جو عوام دوست ہے، یہ بجٹ اقتصادی استحکام کی طرف لے کر جا رہا ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آئل کی قیمتوں کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل ”اے آر وائے” اپنی تکلیف بیان کر رہا ہے، بہت جلد پی ٹی وی سے بھی خبر آئے گی کہ کس طرح پی ٹی وی کو اپنے ذاتی فائدہ کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آر وائے کے پاس میڈیا کی سکرین موجود ہے جسے وہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے جو کسی بھی طرح صحافت نہیں ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں، آئینی عہدوں کو غیر آئینی اقدام کے لئے استعمال کیا گیا، یہ آئینی عہدے عمران خان کے غلام بنے ہوئے تھے، اس فیصلے پر کابینہ کا فیصلہ بھی واضح ہے، ہمیشہ کے لئے اس آئین شکنی کے خاتمہ کے لئے تجاویز پیش کی جائیں جس کی کابینہ منظوری دے گی۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عمران خان کی حکومت نہیں، ہم پراسیس پر یقین رکھتے ہیں، چیئرمین نیب پر سنگین الزامات عائد ہیں، اس میں سابق وزیراعظم بھی شامل ہیں، انکوائری کمیشن جو بھی تحقیقات کرے گا، وہ شفاف ہوں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی ہر اس سیاسی خبر کو اجاگر کرے گا جو پاکستان کے عوام کے لئے خبریت کا باعث بنے گی۔
تبصرے بند ہیں.