اسلام آباد: عمران خان اور پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کیخلاف دہشتگردی کا ایک اور مقدمہ درج، جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر توڑ پھوڑ پر سنگین دفعات کے تحت رہنماؤں و کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
سرکار کی مدعیت میں تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کیا گیا،ہنگامہ آرائی توڑ پھوڑ کےمقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، شبلی فراز، اسد عمر،عمر ایوب،علی امین گنڈا پور، فرخ حبیب، حماد اظہر اور دیگر کو کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں امجد نیازی، خرم نواز، اسد قیصر، عامر کیانی، ڈاکٹر وسیم شہزاد بھی نامزد ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس چیک پوسٹ کو نقصان پہنچایا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کا مین گیٹ اور شیشے توڑے گئے.
جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ اور جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کی چیزیں توڑنے والے ملزمان گرفتار کئے گئے، پولیس کی 2 گاڑیوں،7 موٹر سائیکلوں کو جلایا گیا، ایس ایچ او گولڑہ کی سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق پستول، 20 ہزار روپے، 8 پولیس ملازمین کی اینٹی رائٹ کٹ چوری کی گئیں۔
دوسری جانب سرکاری املاک اور پولیس کی گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی رپورٹ بھی تیار کر لی گئی ہے جو وزارت داخلہ کو بھجوائی جائے گی.
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مظاہرین کی جانب سے مجموعی طورپر 15 پولیس کی گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچایا گیا جس میں دو گاڑیوں اوردو موٹرسائیکلوں کو آگ لگائی گئی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مظاہرین نے تھانہ لوہی بھیر کی پک اپ اور سپیشل برانچ کی بم ڈسپوزل سکوارڈ کی گاڑیوں کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا.
اسی طرح تھانہ مارگلہ کے دو موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگائی، 12 گاڑیاں جن میں دو قیدیوں کی بسوں جبکہ فیصل آباد کانسٹیبلری کی دو بسوں اور ایک چکوال پولیس کی بس کے شیشے توڑے گئے ہیں.
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی پیشی کارکنان کی توڑ پھوڑ، اسلام آباد پولیس کا پی ٹی آئی کے خلاف مزید مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
عمران خان کی پیشی کے موقع پر ہونے والی توڑ پھوڑ کے خلاف مقدمات تھانہ رمنا میں درج کئے جائیں گے۔تمام مقدمات پولیس افسران و اہلکاروں کی مدعیت میں درج کئے جائیں گے۔
پولیس کے زخمی اور ایسے اہلکار جن کو موٹر سائیکل اور گاڑیاں جلائی گئیں ان کی مدعیت میں مقدمات درج ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد پولیس نے تمام اہلکاروں سے درخواستیں مانگ لی گئی ہیں.
اسلام آباد پولیس نے 30 کے قریب کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔املاک کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے مقدمہ کس کی مدعیت میں درج ہو گا،انتظامیہ اور وفاقی پولیس اس حوالے سے تاحال فیصلہ نہ کر سکی۔
تبصرے بند ہیں.