لاہور: بھارت پنجاب پولیس نے امرت پال سنگھ سندھو کی گرفتاری کی تصدیق ،آسام منتقل، کرفیو نافذ ”وارث پنجاب دے“ کے سربراہ بھارتی پنجاب کے ایک گاوں سے گرفتاری کے بعد آسام منتقل کیا گیا۔
کافی ابہام کے بعد بھارتی پنجاب پولیس نے امرت پال سنگھ کی گرفتاری کی تصدیق کی ،۔بھارتی میڈیا کے مطابق امرت پال کو نئی دہلی سمیت 4 ریاستوں میں تلاش کیا جارہا تھا جب کہ نیپال کو بھی اس مقصد کےلئے چوکس کیا گیا تھا۔
بھارتی پولیس کاکہنا ہے کہ امرت پال کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات بعدمیں جاری کی جائیں گی، پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ امرت پال سنگھ نے خود کو پولیس کے سامنے سرنڈر کیا ہے۔
اس سے قبل یہ خبر آچکی تھیں کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے خالصتان کے حامی اور ’وارث پنجاب دے‘ تنظیم کے سربراہ امرِت پال سنگھ کو گرفتارکرلیا گیا جس کے بعد بھارتی پنجاب میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔
بھارتی پنجاب میں سیکیورٹی صورتحال خطرناک رخ اختیارکرگئی، خالصتان کے حامی اور ’وارث پنجاب دے‘ کے روپوش سربراہ امرِت پال سنگھ گرفتار ہو گئے ہیں،گرفتاری کے بعد پولیس اور انتظامیہ صورت حال گھمبیر ہونے کےلئے فکر مند ہے۔
امرت پال سنگھ 37 دن تک بھارتی سیکیورٹی فورسز کے لے درد سر بنے رہے، انسپکٹر جنرل سُکھ چین سنگھ کے مطابق انہیں بھارتی پنجاب کے ضلع موگہ کے گاؤں روڈے سے پکڑا گیا، انسپکٹر جنرل نے احتجاج کی صورت سخت کارروائی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔
گرفتاری سے کچھ دیر پہلے گرو دوارے میں خطاب کرتے ہوئے امرِت پال سنگھ کا کہنا تھا خالصہ تحریک ختم نہیں بلکہ اب شروع ہوگی۔ بھارتی پنجاب میں اس وقت کرفیو جیسی صورتحال ہے، بھارت سے آزادی کا لاوا کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے ۔
واضح رہے کہ بھارتی پولیس ایک ماہ سے ’ وارث پنجاب دے‘ تنظیم کے بانی اور سربراہ اور خالصتان سربراہ امرت پال سنگھ کو تلاش کر رہی تھی۔ کچھ روز قبل امرت پال سنگھ کی اہلیہ کو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
خالصتان تحریک کی حمایت اور اس کےلئے کام کرنے کے بعد امرت پال سنگھ کو بین الاقوامی شہرت ملی جب کہ ان کے حامیوں کی تعدادبھی بہت بڑی ہے جو گرفتاری پر احتجاج کررہے ہیں۔
تبصرے بند ہیں.