فوٹو : فائل
اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ۔دونوں کوراولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا.
پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کو اسلام آباد پولیس کے مسلّح اہلکاروں نے گرفتار کیا،اسلام آباد پولیس کے اہلکار ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو لیکر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو اب سے کچھ دیر قبل ہی رہا کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔
دوسری جانب فواد چوہدری اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے گرفتار نہ کرنے کے باوجود تاحال عدالت میں بیٹھے ہیں اور خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ انھیں باہر نکلنے پر گرفتار کر لیا جائے گا.
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیریں مزاری اور سینیٹر فلک شیر کی فوری رہائی کا حکم دیا گیا عدالت نے حراست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فوری رہا کرنے کے احکامات دئیے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کیخلاف درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، شیریں مزاری کی گرفتاری کیلئے مجسٹریٹ کا حکم نامہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
کمرہ عدالت میں شور پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ مزید کسی شخص کو کمرہ عدالت میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔
اس موقع وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیریں مزاری نے کسی احتجاج میں شرکت کی نہ کوئی بیان دیا، رہنما پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی موجود نہیں تھیں، شیریں مزاری کی گرفتاری خلاف قانون ہے۔
بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما کی حراست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شیریں مزاری کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے گرفتاری کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھاجبکہ اس سے قبل انھیں جیل میں ملاقات بھی نہیں کرنے دی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کو بھی فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کی گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے سینیٹر فلک ناز کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
جسٹس گل حسن اورنگزیب نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی خواتین رہنماؤں کو شرپسندوں کو ہنگاموں کیلئے اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا.
تبصرے بند ہیں.