اسلام آباد: معروف سماجی و کاروباری شخصیت امجد صدیقی کی سوانح حیات کی تقریب رونمائی ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کی گئی جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت.
تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور طلحہ محمود تھے.سیاست صحافت اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے امجد صدیقی کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معذوری کے باجود امجد صدیقی نے اپنا مقام بنایا، وفاقی وزیر مذہبی امور کا خطاب.
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تقریب کے دوران امجد صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سوانح عمری ان لوگوں کے نام کرتے ہیں جو اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں. زندگی سے مایوس لوگوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے.
مہمان خصوصی طلحہ محمود نے کہا کہ امجد صدیقی نے درد کے سفر میں بہت سی باتیں لکھیں جن میں ان کے زندگی کے واقعات کا ذکر ہے اصل سبق اس میں یہ ہے کہ انسان جوان مردی سے مشکلات اور تکالیف کے باوجود کھڑا رہے.
انھوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں، جب اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہے تو اپنے سے نیچے دیکھیں. نیچے دیکھیں گے شکر آئے گا، اوپر دیکھیں گے تو ناشکری آئے گی. جب اپنے اوپر دیکھیں گے تو نا شکری آتی رہے گی کاش یہ بھی مل جاتا، کا وہ بھی مل جاتا.
ان کا کہنا تھا ایک صحت مند شخص کو اس حوالے سے پرواہ نہیں ہوتی لیکن جب معزور شخص جو اسے نعمت نہیں میسر اس کے لئیے کتنی خواہش کرے گا. ہمارے زمانے میں کمپیوٹر موبائل نہیں تھا، کتاب کی تب بڑی اہمیت تھی، لائبریریاں بھری ہوتی تھی.
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا لوگ ایک دوسرے سے کتابیں پڑھنے کے لئیے مانگا کرتے تھے. بُک ریڈنگ کی عادت ہو فروغ دینا چاہیے، کتاب پڑھنے کا اپنا ہی احساس ہے. نئی آنے والی نسل کو کتاب پڑھنے کی عادت پہ لگانا چاہیے، انہیں اس کی اہمیت بتانی چاہیے.
میں امجد صدیقی کو خراج تحسین ہیش کرتا ہوں، اپ اپنی زندگی کو محتاج نہیں بنایا. تقریب کے اختتام پہ مصنف امجد صدیقی کی جانب سے شرکاء کو مصنف کے دستخط شدہ کتب خصوصی طور پر پیش کی گئیں.
تبصرے بند ہیں.