بد نصیب کشتی میں سوار سات سو پچاس افراد کے ڈوبنے کے مناظر ، ان کی آہ وبکا ، ان کی تصویریں کیا نظر آہیں ہمیں ” غازی ڈنکی ” شدت سے یاد آۓ کہ جس کے لہجے میں بلا کی کاٹ ھیے ،جس کے مزاج میں بزلہ سخنی ھیے ، جس کی تحریر میں روانی ھیے ،وہ جس کے لفظ بولتے ہیں ، وہ جس کی تحریر پڑھنے کو اکساتی ھیے ، وہ جس کی انا، جس کی مزاح کی حس اور خوداری ہمالیہ سے بلند ھیے جو یار باشی میں سورج کی طرح روشن ، چاند کی طرح اجلا اور پانی کی طرح شفاف ہے.
پانی ۔۔۔ پانی کے یاد آتے ھی لمحہ یاد کی بکل کی اوٹ سے صداۓ بازگشت سنائی دی ۔۔۔۔ سوال پوچھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور چیز کیا ھیے ، جواب آیا پتھر , کہا گیا پتھر تو لوہے سے ٹوٹ جاتا ہے تو پھر سوال اٹھا پھر سب سے طاقتور ترین چیز لوہا ہوگا ؟ تو جواب آیا آگ لوہے کو پگھلا دیتی ہے تو سوال اٹھا پھر سب سے طاقتور ترین چیز آگ ہوگی ؟ تو جواب آیا پانی آگ کو بجھا دیتا ہے تو یقین ہو گیا سب سے طاقتور ترین چیز پانی ہے.
پانی ۔۔۔۔۔ منہ زور گھوڑے کی طرح اپنے رستے خود بناتا ہے کہاں کسی کو خاطر میں لاتا ہے سیلاب بن جائے تو کھیت، کھلیان ،پل ،سڑکیں، عمارتیں سب زمین بوس ہو جاتی ہیں، بارش کا برستا پانی کھالوں سے نہروں ،نہروں سے دریا بن کر بل کھاتا جب سمندروں کی وسعتوں میں شامل ہوتا ہے تو اصل طاقت وہاں دکھاتا ہے پھر وہ کہاں کسی کو خاطر میں لاتا ہے خوف کی علامت بن جاتا ہے ناگ کی شوکر سے زیادہ اسکی پھنکار خوفناک ہوتی ہے.
یہ غازی ڈنکی کون ہیں جناب یہ ہمارے ہمدم دیرینہ امجد صدیق ہیں جن کا سفر نامہ شائع کرنے کا اعزاض ہمارے ادارے کو حاصل ھیے اور ہمارا فخر یہ ھیے کہ ھم نے دنیا بھر میں اردو نثر پڑھنے والوں کو ایک جینوئن قلم کار سے روشناس کرایا ھیے ، جس کا برملا اعتراف اردو کے ممتاز ومعروف نثر نگار محمد حمید شاہد اور حسن عباس رضا نے کتاب میں موجود اپنی اپنی تحریروں میں بیان کیا ہے۔
اپنی کتاب سفر کہانی کے صفحہ نمبر 259 کے دوسرے پہرے میں امجد صدیق لکھتے ہیں کہ ” اجتماعی قبر سے بھی ہولناک منظر دیکھا ہر طرف گھپ اندھیرا ، اور سمندر کی لہروں کا خوفناک شور ، ہوا چل رھی ھیے اور بلا مبالغہ ایسے لگ رھا ھیے کہ بہت سی بلاہیں مل کر بین کر رھی ہیں ، مجھے دہشت نے جکڑ لیا ، میری ٹانگیں میرا ساتھ نہ دیں.
میں بھاگ کر نیچے جانا چاہتا تھا لیکن میرے پاوں من من بھاری لگنے لگے ، میں پسینے میں شرابور بہت مشکل سے نیچے اتر کر کنٹرول روم میں پہنچا ” جی ھاں یہ امجد صدیق ہیں جو پہلے کوریا میں ڈھائی تین سال کی کامیاب ” ڈنکی ” گزانے کے بعد جاپان کے خوفناک سفر پر رواں تھے ، پچیس سال پہلے ایجنٹ کو چھ ہزار ڈالر دے کر موت کے منہ بند کنٹینر میں ڈھائی دن سفر کیا تھا اس سے پہلے پانچ روز سمندر کا خوفناک منظر کا سفر رونگھٹے کھڑے کر دیتا ہے۔
موت خریدتے اور ڈنکی مارتے لوگوں کی چیخ وپکار میں چشم تصور سے محسوس کررھا ھوں ۔مختلف ملکوں کے خوشیاں خریدنے کے متمنی رات کی تاریکیوں میں صبح کے اجالے حاصل کرنے کے چکر میں کس قدر دیدہ دلیری سے غیر معمولی اور غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں ، بلکہ اوقاف و بساط زے بڑھ کر رقم بھی ادا کرتے ہیں۔
بد نصیب کشتی کے سواروں نے کیا کیا خواب دیکھے اور سپنے سجا کر خطرناک سفر شروع کیا تھا ۔کشتی میں سات سو پچاس افراد کے وزن سمیت ان کی خواہشوں ، حسرتوں ، خوابوں ، کا وزن بھی شامل تھا ۔ لیکن اس سے بڑھ کر موت کے سوداگروں کی خباثت ، بد نیتی ، لالچ اور پیسے ہتھیانے کی ہوس کے ساتھ ساتھ تمام تو منفی سوچوں کا وزن بھی تھا۔
کہ اٹلی کاجھانسہ دے کر خواہشوں سے لدے شپ کا رخ یونان کی طرف موڑ دیا اور اطلاع تو یہ بھی ھیے کہ پاہلٹ نے کشتی بے رحم موجوں کے حوالے کر کے لاہف بوٹ پر فرار ھو گیا تھا اور لوگ لوگوں کے سامنے ڈوب رھے تھے ۔۔۔۔۔ اس مقام پر مجھے سفر کہانی کے آخری صفحات یاد آ رھے ہیں جس میں امجد صدیق بتاتے ہیں کہ ” رات کے اندھیرے میں ہمیں شپ کے اندھرے تہخانے اتار دیا گیا اوپر بنے ھول کا ڈھکن بند کر دیا گیا.
ھاتھ کو ھاتھ سجھائی نہیں دے رھا تھا ، یہ زندگی اور موت کا سفر تھا ھم پانچ دن اس شپ کے میں رہے ، اس تمام وقت میں دو دفعہ ابلے ھوۓ چاول اور پانی کی دو بوتلیں ہمیں ملی تھی باقی سارا راستہ خاموش رہنے کی تلقین ،ڈانٹ ،غصیلی نظریں اور کھردرے لہجے کا سامنا تھا ، کوسٹ گارڈز کے ہاتھوں گرفتاری کاخوف ،جیل اور جہاز کی فنی خرابی کے باعث اس اندھیری قبر میں اجتماعی ایک سو ساٹھ افراد کی موت اور گھروں میں انتظار کرنے والوں کو خبر بھی نہ ھوتی کب زندگی کی شمع کیسے گل ھو گئی ۔”
موت اور وہ بھی اجتماعی موت کے تصور سے سارے جسم جھرجھری سی آگئی میں نے کتاب ایک طرف دکھ دی اپنے یار کے لیے صحت والی زندگی کی دعا کرنے لگا ۔ وہیں سات سو پچاس کشتی کے سواروں کے مغفرت کی دعا بھی میری نم آنکھوں کے ساتھ میرے لبوں پر تھی کہ جن کے خواب بھی پانی کی بے رحم موجوں میں بہہ گے تھے۔
غیر قانونی طور پر ملکوں سے فرار کوئی پہلا واقعہ نہیں ھیے اور نہ ھی لوگ ایسے دلخراش واقعہ کے بعد ڈنکی لگانا بند کر دیں گے ، درحقیقت خوش کا گمان انھیں یہ کام کرنے پر اکساتا ہے اور کوئی جذبہ سرگوشی کرتا ھیے کہ ان کا جہاز ،ان کی کشتی ڈوبی تھی تمھاری کشتی کو کچھ نہیں ھو گا ۔بس پھر ایک جنوں ھیے جو پیسے ادا کر دیتا ہے.
دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ، عزیز ، برادری کی برابری کرنے کےلیے ،گلی ،محلے ،علاقے امیر کہلانے کے لیے ، موت کے سفر کا ٹکٹ خرید لیتے ہیں بلکہ امجد صدیق تو یہاں تک بتاتے ہیں کہ ماں باپ طرلے ،منتیں کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارے بچے کو ساتھ ضرور لے کر جاناہے ۔
ہمدم دیرینہ کی کتاب ھیے” سفر کہانی” کہنے کو تو ایک سفر نامہ ھیے لیکن سچ یہ ھیے کہ ھمارے ھم عمر جن بچوں نے عمران سیریز کو پڑھا ھیے انھیں کتاب پڑھتے ھوئے یوں محسوس ھوتا ھیے کہ وہ ابن صفی کو پڑھ رھیے ہیں ، کہ ھر موڑ پر حیران کن حیرتیں ہمیں چونکا کے رکھ دیتی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کرتی تحریر زہن کے پردے پر زندگی اور موت کو ساتھ ساتھ محسوس کراتی ھےاور سب سے بڑھ کر یہ کہ امجد صدیق کا طرز تحریر سادہ اور آسان ہے. جس میں بناوٹ اور آورد کی آمیزش نہیں ہیے یہ سچی سچی باتوں اور ملاقاتوں کا ایسا گلدستہ ھیے جس میں ملن کی ہنسی خوشی اور شوخیاں بھی ہیں ، وچھوڑے کے آنسو ، رشتوں کا احترام اور ان کی قدر ہے اور پردیس میں قربانی کی اہمیت بھی ہے ۔یہ واقعی ایک پڑھنے لائق کتاب ہے۔
تبصرے بند ہیں.