جولائی جب جب آتا ھیے دکھ تازہ کرتا ھیے اس ماہ کی پانچ اور تیرہ تاریخ کہ جن کے بارے میں آج کی نسل کچھ نہیں جانتی ،
تیرہ جولائی1931 عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پرسرینگر سینٹرل جیل کے باہر لوگ اکھٹے ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔
نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شرو ع کی تو مہاراجہ کے فوجیوں نے اسے گولی مارکر شہید کر دیا۔اس کے بعد ایک اور شخص اذان پوری کرنے کےلئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کردیا گیا۔ یوں اذان مکمل ہونے تک 22کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔آفرین اور سلام ان شہیدوں کی شہادت پر ۔۔۔
اور پھر پانچ جولائی ، ،پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اھم موڑ ، میرے جیسے بہت سے لوگ ایسی بہت سی تاریخوں کے چشم دید گواہ ھیں آج سے چھالیس سال پہلے 5 جولائی 1977 کا دن تھا ملک دستار جمہوریت سجاۓ ترقی کی شاہراہ رواں دواں تھا کہ مارشلا لگا دیا گیا۔
پھر آرمی چیف آن کی آن میں چیف مارشلا ایڈمنسٹریٹر بن گے ، تمام بنیادی انسانی حقوق کو سلب کر دیا گیا ، آئین معطل کر دیا گیا ،اسمبلیاں توڑ دیں گیں ،مارشلا کے تمام ضابطے اعلی عدالتوں سے بالاتر قرار دے دیے گئے.
یہاں یہ بات بتانا بہت ضروری ھیے کہ وہ بچے جو 1980 کے بعد پیدا ھوۓ ہیں وہ ایک دفعہ ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں ضرور پڑھیں تو انھیں اندازہ ھو گا ،کہ ذوالفقار علی بھٹو ، اور یہ جو بار بار سنتے ہیں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ھیے ، یا یہ کہ جب تک سورج چاند رہیے گا بھٹو تیرا نام رہے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بحیثیت سربراہ مملکت پانچ سال ،چھ ماہ اور پندرہ دن حکومت کی تھی اس دوران وہ ایک سال ، آٹھ ماہ اور پچیس روز صدر مملکت رہے اور چودہ اگست 1973 سے 5 جولائی 1977 تک وزیر اعظم رہے.
ان برسوں میں ملک کو ایٹم بم دیا جس کے بدلے میں انہیں امریکی وزیر خارجہ نے نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی تھی جسے خاطر میں لاۓ بغیر کام جاری رکھا ۔
ایک وقت 1947میں آزاد ھونے والے ملک کو عبوری آہین سے چلایا جا رہا تھا ،اس بے آہین سرزمین پاک کو متفقہ آئین دیا، 1971 کے سانحے کے نوے ہزار فوجی بھارتی قید سے واپس لیے، قادینوں کا مسلہ حل کیا چین کو تیسری دنیا میں متعارف کرایا اسے ویٹو پاور بنایا ریلوے, سٹیل مل ,ایف آئی اے, کے تحفےدیے قائد اعظم یونیورسٹی دی گومل یونیورسٹی دی
پاکستان کا پہلا لا کالج اور یونیورسٹی دی ، کے پی کے میں پانچ یونیورسٹیاں بنائیں.
واہ ہیوی مکینکل انڈسڑی بنائی کہوٹہ اٹامک پلانٹ بنایا چین, انڈیا, ایران سے اپنا ہزاروں میل رقبہ واپس لیا. بہترین خارجہ پالیسی دی
اسلامی سربراہی کانفرنس میں امت مسلمہ کو متحد کیا، ووٹ کا حق دیا، شناختی کارڈ دے کر پہچان دی ، سب سے بڑی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بنوائی،
لوک ورثہ ، نیشنل بک فاونڈیشن ، اکادمی ادبیات پاکستان جیسے ادارے بھی دیے ، وقت کس قد تیزی سے گزر جاتا ھیے ، دریاؤں کا پانی پلوں کے نیچے سے گزر جاتا ھیے ، چہروں کے خدو خال بدل گۓ ہیں اس وقت کے بچے اور جوان بڑھاپے کی دہلیز پر آ چکے ہیں.
زرا غور کریں 46 سال گزر گۓ ھیں اس مارشل لاء کو گزرے ہوئے لیکن ملک آج بھی اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا ، سیاسی غلطیوں کا خمیازہ ملکوں کو بہت عرصے تک بھگتنا پڑھتا ہے، بلکل اسی طرح جیسے 1985 کے الیکشن میں سیاسی پارٹیوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا ، کاش یہ بائیکاٹ نہ گوا ہوتا۔
تبصرے بند ہیں.