پیکا ایکٹ یا اندھا قانون
عقیل احمد ترین
پیکا ترمیمی ایکٹ اگرچہ ڈیجیٹل میڈیا پہ ہونیوالی کردارکشی،ڈس اںفارمیشن، فیک نیوز ،پراپیگنڈا ٹولز اور مس انفارمیشن کو روکنے کیطرف ایک قدم ہے،پیکا مسلم لیگ ن کے 2013 سے2018 کےدور میں سامنے لایا گیا لیکن اس وقت اسمیں اتنی خامیاں یا سختیاں تھیں۔
جلد ہی ییکا ایکٹ لانے والوں کو اسبات کااحساس ہوگیا کہ یہ ایکٹ ،نیب اور دیگر مارشل لائی آرڈیننس کی طرح انہی پہ استعمال ہوسکتا،پھر 2019 اور2020کے اوائل میں تحریک انصاف کی حکومت نے اس پہ کام شروع کیا۔
فرخ حبیب تو اس کام کیلئے کل وقتی وزیر مملکت برائے اطلاعات بنا ئے گئے لیکن اس وقت بھی میڈیا سے مشاورت پہ یہ نکتہ سامنے لایا گیا کہ بالاخر پیکاایکٹ سیاستدانوں اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو بھی لپیٹ میں لے لے گا ،جبکہ پیکا ایکٹ کو لانے کی تیسری بار کوشش کرنیوالوں کو اسکی خامیوں و خوبیوں بارے سمجھایا گیا، پھر اس وقت یہ چیپٹر بند ہوگیا
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے عتاب ،در فتنیوں اور حشر سامانیوں سے کوئی محفوظ نہیں حتی کہ سوشل میڈیا نے ٹرولنگ، ڈیپ فیک سے نازیبا وڈیوز ،اے آئی سے کردارکشی کی نت نئی جہتوں سے خود کو فساد فی الارض اور دجالی قوتوں کا حقیقی وارث ثابت کیا۔
آج بات کردارکشی اور پگڑیاں اچھالنے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ریاست کی بقا کیخلاف ایک ایسے وائرس کے طور سامنے آیا ہے جس نے اداروں اور عوام کے درمیان خلیج قائم کرنا شروع کردی۔
اگر چہ پیکا ایکٹ جیسا اقدام ریاست نے بہت دیر سے اٹھایا، بہت نقصان اور نفرتوں کے بیج تناور درخت بننے کے بعد اٹھایا لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ریاست یا پیکا ایکٹ لانے والے ابھی تک اپنے اصل دشمن اور دوست کے درمیان فرق نہیں کرسکے ہیں۔
الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے نہ ربوٹس ہیں نہ ہی وہ کسی قسم کے الگورتھم پہ چلتے ہیں وہ پاکستان کے ان وفاداروں سے زیادہ محب وطن ہیں جو بغیر ریاستی وسائل کی مدد کے پاکستان اور اسکے نظریاتی اساس کے بہترین محافظ ہیں۔
جیسے عطائی ڈاکٹرز کیخلاف قانون سازی کو آپ ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر پہ اپلائی نہیں کرسکتے اسی طرح پیکا آرڈیننس کے قوانین کو ریاست میڈیا پروفیشنلز کیخلاف استعمال نہیں کرسکتی،اگر وہ کریگی تو اس کے تباہ کن نتائج پوری قوم بھگتے گی۔
کیونکہ اس سے انفارمیشن تک رسائی کے بنیادی حق سے آپ عوام الناس کو محروم کردینگے،اس سے آزادی اظہار و آزادی صحافت پہ بھی کڑی قدغن لگے گی جو ایک جمہوری اور پروگریسو پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکائے گی۔
اس سے ایف اے ٹی ایف جیسی صورتحال سے بھی ریاست دوچار ہوسکتی ہے،لہذا حکومت اور پیکا ایکٹ کو لانے والوں کو اس ترمیمی ایکٹ کوڈیجیٹل میڈیا کی سرکوبی تک ہی محدود کرنا چاہیئے ،ویسے بھی تہذیب یافتہ اقوام نے فیکٹ چیک فورمز بنائے ہوئے ہیں جو فیک نیوز کی موت ہے،ریاست پاکستان بھی ایسے فورمز فعال کرے،ہر وزارت کا ایک فیکٹ چیک پیج ہوناچاہیے۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ویسے بھی اپنی ریگولیٹری باڈیز ہیں انکو انہی کے زریعے جزاو سزا سے منسلک رہنے دینا چاہیئے ،اور اسمیں اہم بات یہ ہے کہ کیونکہ پیکا باڈی میں حکومت کے اپنےمنتخب کردہ لوگ ہونگے تو اس بات کا فیصلہ کون کریگا یہ فیک نیوز ہے یا خبر دینے والا؟
کسی کے ذاتی انتقام کا نشانہ تو نہیں بن رہا،پیکا ایکٹ پہ بھرپور مباحثوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ پاکستان کے داخلی سیاسی و سماجی ڈھانچے کیمطابق کام کرسکے ،جس سے آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت متاثر نہ ہو۔
سب سے بڑھ کر آواز کو دبانے کی کوشش میں عوام کے اندر آتش فشاں جیسی صورتحال پیدا نہ ہو،کیونکہ ایکطرف تو ہم ٹیکنالوجیز سے استفادہ چاہتے،انٹرنیٹ کی بندش پہ وضاحتیں دینے پہ مجبور ہوجاتے اور دوسری طرف ملک میں 5 جی اور اس سے آگے کی ٹیکنا لوجیز کو متعارف کرانا چاہ رہے۔
بجائے اس کے ریاست میمز اور اس طرح کے ٹرینڈز چلانے والوں کو پکڑ دھکڑ میں لگے وہ یہ کام فائروال سے کرائے،انڈ یااور چین ماڈل کو اسٹڈی کرے، اس پہ جلد بازی کرکے ملک کے سوشل فیبرک کو ڈسٹرب کرنے سے تھوڑی ریسرچ کرکے پائیدار حل کی طرف جایا جائے ، بہرحال موجودہ حکومت کے جمہوری چہرے پہ سیاہ دھبہ رہے گا کیونکہ پیکا ایکٹ ایک اندھا قانون ہے۔ (بشکریہ فیس بک کاپی)
پیکا ایکٹ یا اندھا قانون
تبصرے بند ہیں.