حکومت کا جوڈیشل کمیشن کے بعد پیکا قانون پر بھی دوہرا موقف

فوٹو : فائل

اسلام آباد : حکومت کا جوڈیشل کمیشن کے بعد پیکا قانون پر بھی دوہرا موقف سامنے آیا ہے اور حکومتی نمائندوں نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتےہوئے بات چیت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

حکومتی سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ مانتے ہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہو سکتی، اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیے تھی جو قانون مشاورت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔
سینیٹر عرفان صدیقی کی طرح وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولزبننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہے۔

پیکا قانون بن جانے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ مشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شک متنازع ہے ہم اس پربات کرنے کو تیار ہیں۔

کہا سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے.

واضح رہے پاکستان تحریک انصاف انصاف کی مزاکراتی کمیٹی کی طرف سے 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ مزاکرات کی ٹیبل پر نہیں مانا گیا تاہم پی ٹی آئی نے مزاکرات ختم کردیئے تو حکومتی نمائندے کمیشن بنانے پر موقف تبدیل کرتے نظر آتے ہیں.

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی صحافیوں سے مشاورت کے بعد پیکا ایکٹ پر دستخط کرنے کا کہا تاہم بعد بغیر مشاورت کئے ہیں دستخط کرکے پیکا کو قانون بنا دیا.

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.