افغانستان میں کابل کا سرینا ہوٹل طالبان نے جرمن کمپنی کے حوالے کردیا

فوٹو: فائل

کابل : افغانستان میں کابل کا سرینا ہوٹل طالبان نے جرمن کمپنی کے حوالے کردیا،ایک ہفتہ قبل طالبان نے کابل کے سرینا ہوٹل کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن کمپنی کو سپردگی کے ساتھ ہی سرینا ہوٹل کانام تبدیل کرکے کابل گرینڈ ہوٹل رکھ دیا گیا ہے۔

اس حوالے جرمن کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق ہوٹل کا انتظام اب سنڈریلا انٹرنیشنل گروپ سنبھالے گا۔

جرمن کمپنی افغانستان میں 20 سال سے کام کر رہی ہے، کمپنی کے مطابق طالبان سے نیلامی کے ذریعے ہوٹل کا انتظام 10 سالہ معاہدے کے تحت سنبھالا ہے۔

واضح رہے کہ سرینا کابل وہی ہوٹل ہے جہاں 10 سال قبل طالبان نے حملہ کیا تھا جس میں امریکی شہری سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طالبان نے گزشتہ ہفتے ہی سرینا ہوٹل کابل کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

واضح رہے کہ سرینا کابل وہی ہوٹل ہے جہاں 10 سال قبل طالبان نے حملہ کیا تھا جس میں امریکی شہری سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طالبا کابل سیرینا ہوٹل نے اپنے قیام کے بعد سے کئی مشکل دور دیکھے ہیں۔ طالبان کے حملوں میں 2008، 2014، اور 2021 میں ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا، جس میں غیر ملکی مہمانوں اور افغان اہلکاروں کی جانیں بھی گئیں۔

اس سب کے باوجود سرینا کابل نے اپنے دروازے کبھی بند نہیں کیے اور سفارتکاروں، صحافیوں، اور بین الاقوامی مہمانوں کے لیے ایک محفوظ قیام گاہ کے طور پر کام کرتا رہا۔ 

کابل سیرینا ہوٹل ایک انڈین نیوز اینکر کی وجہ سے بھی مشہور ہوا، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی، آئی ایس آئی، کا ہوٹل کی چوتھی منزل پر ایک دفتر ہے—حالانکہ کابل سیرینا ہوٹل میں صرف دو منزلیں ہیں۔

ہوٹل کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ سیرینا ہوٹلز کے دیگر 33 مقامات پر دنیا بھر کے مہمانوں کو روایتی مہمان نوازی اور غیر معمولی خدمات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.