امریکہ کے دوست ممالک اورسربراہان مملکت کےلئے یوکرینی صدرکی تضحیک ایک سبق ہے

فائل:فوٹو

محبوب الرحمان تنولی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدرکے درمیان ملاقات میں تلخ کلامی اورمہمان صدر کے ساتھ سرے عام ایسا سلوک سفارتی آداب کے منافی ہے، امریکہ کے دوست ممالک اورسربراہان مملکت کےلئے یوکرینی صدرکی تضحیک ایک سبق ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یوکرین کی جنگ میں امریکہ نے ہتھیاروں کی مد میں اربوں ڈالر کی مدد بھی کی اور یوکرین کی حمایت بھی لیکن اس کے باوجود کسی دوست ملک کے ساتھ ایسا رویہ نہیں ہونا چایئے جس سے لگے کہ وہ دوست نہیں ملازم ہیں ۔

ریاستوں کے درمیان تعلقات بے شک مفادات کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود سفارتی آداب کوملحوظ خاطر رکھنا ناگزیر ہوتاہے،کیونکہ سامنے بیٹھے شخص پر مشکل وقت ضرور ہے مگروہ بھی ایک ملک کا سربراہ ہے۔

بعدمیں جس طرح یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کووائٹ ہاوٴس سےجانے کو کہا گیا ہے یہ بھی غیرمناسب طرزعمل ہے۔

اس سارے معاملے کو جہاں دنیا بھر کے میڈیا میں رپورٹ کیا گیا کیونکہ یہ سارا واقعہ میڈیا کے سامنے ہی ہوا تو اس سے امریکہ کے دوست ممالک یا مدد لینے والوں کےلئے ایک واضح پیغام گیا ہے کہ امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کرو گے تو پھر تیار ہوجائیں ایسے ردعمل کےلے بھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے تلخ کلامی کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی وائٹ ہاوٴس کے کہنے پر وہاں سے روانہ ہوگئے،امریکہ یوکرین معدنیات معاہدہ ہوا نہ مشترکہ پریس کانفرنس،یوکرینی صدرکووائٹ ہاوس سےنکال دیاگیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاوٴس میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ اور نائب صدر وینس نے یوکرینی صدر سے سخت لہجے میں گفتگو کی۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی سے استفسار کیا کہ انہوں نے ابھی تک صدر ٹرمپ کا شکریہ کیوں ادا نہیں کیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ زیلنسکی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ امریکا کو احکامات دے سکیں اور انہیں بہت زیادہ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ ان کی وجہ سے جنگ بندی ممکن نہیں ہو پا رہی اور وہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو روس-یوکرین جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے سہ فریقی مذاکرات کو “مشکل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہوگا۔

اس تند و تیز گفتگو کے بعد دونوں صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس اور معدنی وسائل کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاوٴس سے جانے کا کہا گیا جس کے بعد وہ روانہ ہو گئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب زیلنسکی امن کے لیے تیار ہوں تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ عالمی سفارتی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے جہاں ایک ملک کے صدر کو دوسرے ملک کے صدر کی جانب سے اس قدر سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد یوکرینی صدر نے ٹرمپ سے تلخ کلامی پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ آج وائٹ ہاؤس میں جوکچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا، اگرممکن ہو بھی جائے تو بھی وائٹ ہاؤس واپس نہیں جاؤں گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ یوکرین کے پاس روس کو اپنی سرزمین سے نکالنے کیلئے کافی ہتھیارنہیں  یوکرین کے لیے امریکا کے بغیر روس کو روکنا مشکل ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی حمایت کے بغیر روسی افواج کا حملہ روکنا مشکل ہوگا، امریکا کے ساتھ یقینا تعلقات کو بچایاجا سکتا ہے ، ایک شراکت دار کے طور پر امریکا کو کھونا نہیں چاہتے۔

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.