کالا باغ ڈیم کو منصوبہ بندی کمیشن کی دستاویزات سے نکالنے کی ہدایت
فوٹو : فائل
اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کے اجلاس میں آبی وسائل ، ڈیمزکی پیشرفت اورکراچی کے پانی کے مسائل پر غورکیا گیا۔ چیئرپرسن قراۃ العین مری نے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکی تجویز پرسوال اٹھایا اور کالا باغ ڈیم کو منصوبہ بندی کمیشن کی دستاویزات سے نکالنے کی ہدایت دی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بھاشا دیامر ڈیم کا 15 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ K-4 منصوبے کا 57.77 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ کمیٹی نے پانی کے ذخائر کے تحفظ اورموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے پر زور دیا.
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کا اجلاس چیئرپرسن قراۃ العین مری کی زیر صدارت ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں، آبی وسائل اور ڈیمز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں گومل زام اور داڑوت ڈیم کی پیش رفت سمیت کالا باغ ڈیم، بھاشا دیامر ڈیم اور کراچی کے پانی کے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران چیئرپرسن قراۃ العین مری نے سوال اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی تجویز کس نے دی، جبکہ تین صوبائی اسمبلیاں اس کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہیں۔
انہوں نے منصوبہ بندی کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دستاویزات اور پریزنٹیشن سے کالا باغ ڈیم کو نکال دے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے اجلاس کو بتایا کہ نئی نہر کے لیے دریائے جہلم سے پانی لیا جائے گا اور سلمانیکی ہیڈ ورکس سے پانی چولستان منتقل کیا جائے گا۔
اجلاس میں بھاشا دیامر ڈیم اور داسو پن بجلی گھر منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھاشا دیامر ڈیم کا 15 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ 2035 تک مکمل ہونے کا ہدف ہے، تاہم سینیٹر افنان اللہ خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوگا۔
کراچی میں پانی کے بحران سے متعلق بھی اجلاس میں غور کیا گیا، جہاں بتایا گیا کہ K-4 منصوبے پر اب تک 57.77 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور وفاقی حکومت اس منصوبے پر 66 ارب روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے K-4 منصوبے کے صوبائی حصے پر کام اپریل 2027 میں مکمل ہوگا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پانی کے ذخائر کو بچانے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
تبصرے بند ہیں.