سائفرکیس ،عمران خان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9 ماہ بعد جاری کردیا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: سائفرکیس ،عمران خان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9 ماہ بعد جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس عجلت میں سنا گیاہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس میں تفصیلی فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے، اسوقت کےچیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس گل حسن نےجون میں مختصر فیصلہ جاری کیا تھا۔

جس مین ڈویژن بینچ نے عمران خان ،شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 جون 2024 کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود کی سزا کالعدم قراردی تھی۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ استغاثہ عمران خان ،شاہ محمود قریشی کیخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرائل غیر ضروری جلد بازی میں چلایا گیا۔

فیصلے میں کہنا تھا کہ ملزمان کے وکلاکے التوامانگنے پر سرکاری وکیل تعینات کردیاگیا اور سرکاری وکیل کو تیاری کے لیے محض ایک دن دیا گیا ، سرکاری وکیل کی جرح انکی ناتجربہ کاری ،وقت کی کمی ظاہر کرتی ہے۔

یہ کیس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ بیک کرنے کی نوعیت کا ہے، عدالت اس کیس کو میرٹ پر سن رہی ہے ، جرح کو ایک طرف رکھا جائےتوبھی استغاثہ کےشواہدکیس ثابت کرنےکیلئےناکافی ہیں ، استغاثہ اپناکیس ثابت کرنےمیں مکمل طور پرناکام رہی ہے۔

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.