قومی سلامتی کمیٹی اجلاس محض پریزینٹیشن تھی، اعلامیہ سے دہشتگردی ختم ہوتی تو اب تک ہو چکی ہوتی

فوٹو : فائل

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس محض پریزینٹیشن تھی، اعلامیہ سے دہشتگردی ختم ہوتی تو اب تک ہو چکی ہوتی، انھوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے.

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک بیان میں صوبے میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی صورت آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، جتنے دہشتگرد مارے جارہے ہیں، افغانستان سے اتنے مزید آرہے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے 9 سے ساڑھے 11 ہزار کے قریب جنگجو ہمارے علاقے میں آچکے ہیں جب کہ بارڈر اور دوسری طرف ساڑھے 22 ہزار کے لگ بھگ جنگجو موجود ہیں، عوام ساتھ ہوں اور نیت صاف ہو تو ان سے نمٹ لیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میٹنگ کم اور پریزینٹیشن زیادہ تھی، پریزینٹیشن اور اعلامیہ پیش کرنے سے دہشتگردی ختم ہونا ہوتی تو اب تک ہو چکی ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، آگے بڑھنے کے لیےعمران خان کو رہا کرنا ہوگا.

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.