انڈیا کی 7ریاستیں الگ ہو گئیں؟

مہتاب عزیز

بلوچستان کی حالیہ شدہ دہشت گردی کا براہ راست ہدف پاکستان کے علاوہ چینی مفادات بھی ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ امریکی پالیسی کے تحت بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کی بنیاد ہی چین کی آبنائے ملاکا (Strait of Malacca) کو بائی پاس کر کے سمندر تک رسائی کو ناممکن بنانا ہے۔
چونکہ سی پیک (China-Pakistan Economic Corridor) کی وجہ سے چین کی تجارت کو آبنائے ملاکا (Strait of Malacca) میں بلاک کرنے کی وہ پالیسی ناکام ہو جاتی ہے۔ جس پر کواڈ اتحاد (Quad alliance) کے ممالک امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا کئی سو ارب ڈالر لگا چکے تھے۔ اس لیے فلحال سارا زور بلوچستان میں بی ایل اے اور اس کے سہولتکاروں پر ہے۔ (اس سے قبل گلگت بلتستان میں بھی سی پیک کے خلاف ایک کمپئن شروع کی گئی تھی، جو ناکام ہوئی)۔

مہرنگ بلوج

بظاہر لگتا ہے کہ اس بھارتی شرارت کا جواب اب چین اور پاکستان نے بھارت کی سیون سسٹرز کہلانے والی شمال مشرقی ریاستوں میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال جنوری میں بھارت میڈیا میں خریں گرم رہیں کہ پاک فون کے سنئیر اہلکاروں نے بھاری کے بنگلہ دیش کے “رنگ پور ضلع” کا دورہ کیا ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق میجر جنرل شاہد عامر، جو آئی ایس آئی میں شعبہ تجزیہ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور بیجنگ میں پاکستان کے دفاعی اتاشی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، اس وفد کا حصہ تھے۔

واضع رہے کہ بنگہ دیش کا ضلع رنگ پور بھارت کے “چکن نیک” کہلانے والے اسٹریٹجک Siliguri Corridor پر واقع ہے۔ یہ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں واقع صرف 20 سے 22 کلومیٹر چوڑی زمین کی ایک تنگ پٹی ہے، جو بھارت کے مزکری حصے کو شمال مشرقی کی سات ریاستوں سے جوڑتی ہے۔ اس تنگ پٹی کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر یہ بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے، تو شمال مشرقی بھارت کی تمام ریاستیں بھارت سے جدا ہو جائیں گی۔ یہ چین کی سرحد سے بھی کافی قریب ہے، اسی کے قریب کچھ عرصہ قبل بھارتی اور چینی فوجوں کے درمیان “ڈوکلام” کے علاقے میں شدید تناو کی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔

اس سلسلے میں بڑا دھماکہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے اپنے دورہ چین کے دوران کیا ہے۔ اُنہوں نے 28 مارچ کو بیجنگ میں ایک تقریب کے دوران کہا۔
“بھارت کی سیون سسٹرز کہلانے والی شمال مشرقی سات ریاستیں در اصل “لینڈ لاک علاقہ”ہیں۔ جن کی سمندر تک کوئی براہ راست رسائی نہیں۔ جبکہ بنگلہ دیش اس خطے کے نزدیکی سمندر پر بلا شرکت غیرے کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ پوزیشن بہت بڑے امکانات کی کنجی ہے، یہاں چینی معیشت کی توسیع کے زبردست امکانات ہیں”۔

محمد یونس کے اس بیان نے بھارت میں کھلبلی مچا دی ہے۔ کیوں کہ یہ واضع طور پر ان سات ریاستوں کی بھارت سے اعلیحدگی کی جانب اشارہ ہے۔ واضع رہے کہ بھارت کی شمال مشرقی “سیون سسٹرز” ریاستیں، جن میں اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورم، ناگالینڈ، اور تری پورہ شامل ہیں، تاریخی، ثقافتی، اور نسلی تنوع کی وجہ سے کئی علیحدگی پسند تحریکوں کا گڑھ ہیں۔ ان ریاستوں کو اکثر بھارت کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ سمجھا جاتا ہے، اور یہاں کی مقامی آبادی طویل عرصے سے اپنی الگ شناخت اور خود مختاری کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

ذیل میں ہر ریاست کی علیحدگی پسند تحریکوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1. اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh)
چین اروناچل پردیش میں 90 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ اس خطے کو “جنوبی تبت” کا حصہ قرار دیتا ہے۔ یہاں بھارت اور چین کے درمیان کوئی طے شدہ سرحد نہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق چین کئی سو کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا ہے۔ سال 2023 میں چین نے اروناچل پردیش کے 30 قصبوں اور شہروں کو چینی نام دے کر اپنا علاقہ قرار دیا تھا۔
یہاں نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (NSCN)، کے مقامی گروپ بھارت اسکیورٹی اداروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

2. آسام (Assam)
علیحدگی کی تحریک: آسام میں سب سے نمایاں تحریک یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (ULFA) کی ہے، جو 1979 میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد آسام کو بھارت سے الگ کر کے ایک خود مختار ریاست بنانا تھا۔
اس کے علاوہ، بوڈو قبائل علیحدہ بوڈولینڈ کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، جس کی قیادت نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (NDFB) کر رہی ہے۔ اس تنظیم سے 2020 میں بھارت کا امن معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت بوڈو ٹیریٹوریل ریجن (BTR) قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا، گشیدگی ابھی تک برقرار ہے۔

3. میگھالیہ (Meghalaya)
میگھالیہ میں علیحدگی پسندی کی تحریک 1972 میں آسام سے الگ ہو کر ایک مکمل ریاست بننے کے بعد وقتی طور پر کچھ کمزور ہوئی تھی۔
لیکن مسلح تنظیم “ہینیٹریک نیشنل لبریشن کونسل” (HNLC) کھاسی ہلز میں علیحدگی کے لیے مسلسل لڑتی رہی ہے۔

4. منی پور (Manipur)
منی پور میں کئی علیحدگی پسند تحریکیں بھارت کے روز اول سے فعال رہی ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ 1949 میں بھارت کے ساتھ الحاق جبری تھا۔
یہاں فعال اہم اعلیحدگی پسند گروہوں میں یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ (UNLF)، پیپلز لبریشن آرمی (PLA)، اور کینگلیپاک کمیونسٹ پارٹی (KCP) شامل ہیں۔ حال ہی میں کوکی قبائل کی مسلح تحریک نے بھارت سے اعلیحدگی کے لیے انگلینڈ میں جلا وطن حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

5. میزورم (Mizoram)
میزورم میں میزو نیشنل فرنٹ (MNF) نے 1966 میں بھارت سے علیحدگی کے لیے مسلح بغاوت شروع کی، جسے “میزورم انسرجنسی” کہا جاتا ہے۔

6. ناگالینڈ (Nagaland)
ناگالینڈ میں علیحدگی پسندی کی سب سے طویل اور شدید تحریک چلی، جو 1947 میں بھارت کی آزادی سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ ناگا قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ ان کا بھارت کے ساتھ کوئی تاریخی تعلق نہیں۔
نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (NSCN) اس تحریک کی سب سے بڑی تنظیم ہے، جس کی شاخیں (NSCN-IM اور NSCN-K) مختلف اہداف کے لیے لڑتی ہیں۔ ان کا مطالبہ “ناگالم” (ایک خود مختار ناگا ریاست) کا قیام ہے۔

7. تری پورہ (Tripura)
تری پورہ میں کئی مقامی قبائل نے علیحدگی کی تحریکیں شروع کر رکھی ہیں، یہاں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ (NLFT) اور آل تری پورہ ٹائیگر فورس (ATTF) اہم گروہ ہیں، جو علیحدہ ریاست کے لیے لڑ رہے ہیں۔

بنگہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کے بھارت کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے نتیجے میں سیون سسٹرز اسٹیٹس میں علیحدگیکی تحریکوں کی شدت کم ہوئی ہے۔ تاہم ناگالینڈ اور منی پور میں تحریکیں مسلسل فعال ہیں، جبکہ دیگر ریاستوں میں نسلی تنوع، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید جذبات موجود ہیں۔

بھارت کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی کو  بڑھاوا دینے کا جواب یہاں ملنے کی توقع ہے۔

(بشکریہ مائنڈ ڈاٹ کام)

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.