سوپور،کی یادوں کے سحر سے خود کو آزاد نہیں سکا، مقصود احمد منتظر

فوٹو: زمینی حقائق، سوشل میڈیا

 اسلام آباد: سوپور،کی یادوں کے سحر سے خود کو آزاد نہیں سکا، مقصود احمد منتظر ہنستے مسکراتےباتیں کرتے کرتے اپنے آبائی علاقے کا نام لے کر سنجیدہ ہوگئے،توقف کیا، پھرگویا ہوئے،بظاہر میں مقبوضہ کشمیر کو خیر باد کہہ چکا ہوں مگرمیرے والدین، سارے رشتے، میرا بچپن جوانی کی سب یادیں توزندہ ہیں۔

مقصود احمد منتظر مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے سال 2000 کے آخر میں پاکستان آئے تھے اور اب اسلام آباد کے الیکٹرک میڈیا کے نامور صحافی ہیں،دو دہائیاں قبل پہلے بھائی پر قابض بھارتی افواج کے ظالمانہ ٹارچر اور پھر خود ان کا تشدد کا شکار بنے، کافی عرصہ مقامی مجاہدین کے ساتھ مل کر بھارتی جبر کے خلاف برسر پیکار ہے.

اس حوالے سے “زمینی حقائق میڈیا گروپ” کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مقصود منتظر نے بتایا کہ وہ ضلع بارہ مولہ کی تحصیل سوپورکا علاقہ زین گیر، سے ہیں جسے کشمیر کا پنجاب بھی کہاجاتا ہے.

مقصود احمد منتظر آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے ہمراہ

انھوں نے ہرد شیوا،ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی ، بومائی انٹر کالج سےایف ایس سی اور سو پورکالج سے گریجویشن کی،ان کے مطابق علی گڑھ یونیورسٹی میں ان کا ایڈمیشن ہو گیا تھا مگروہ ادھر جا نہ سکے.

پاکستان سے تعلق سے متعلق ایک سوال پرمقصود احمد منتظر نے بتایا کہ ایک میں ہی نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بسنے والا ہر کشمیری خانہ کبعہ کے بعد پاکستان کی سرزمین کو مقدس سمجھتا ہے پاکستان سے پیار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد جب سپرد خاک ہوتے ہیں تو انھیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کرنا پسند کرتے ہیں۔

حریت کانفرنس کے ممتاز رہنما مرحوم سید علی گیلانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ علی گیلانی سوپور میں ہمارے پڑوسی تھے ، ان سے اچھا تعلق رہا ہےوہ ہماری قابض افواج کے خلاف حق خودارادیت کی جدوجہد کےحامی تھے۔

ہم ہیں پاکستانی ، پاکستان ہمارا ہے، مقصود منتظر کے بچے

مقصود منتظر نے اس موقع پر سیدعلی گیلانی کی پاکستان سے محبت کا بھی حوالہ دیا کہ انھوں نے عمر کا بڑا حصہ حق خود ارادیت کی پرامن جدوجہد میں گزارا ہے، یہ علی گیلانی ہی تھےجب وہ،ہم ہیں پاکستانی پاکستان ہمارا ہے، کا نعرہ لگا کر کشمیریوں کا خون گرماتے تھے۔

پاکستان آمد کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فوج کے خلاف جدوجہد کے دوران میں چند ساتھیوں کے ہمراہ 17 دن پیدل سفر کے بعد آزاد کشمیر داخل ہوا تھا،پاک سرزمین پر قدم رکھتے ہی سر بسجود ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے موت سے کبھی ڈر نہیں لگا، اگر ایسا ہوتا تو میں بھارتی قابض افواج کے خلاف برسرپیکار مقامی کشمیری تنظیم کا حصہ نہ بنتا مگر نوجوانی کے کئی سال آزادی کی تحریک کے ساتھ وابستہ رہ کر یہ فیصلہ کیا کہ اب آزاد فضا میں رہنا ہے۔

اس سوال پر کہ کبھی ایسا لگا کہ اب کشمیری جلد حق خود ارادیت حاصل کرلیں گے؟ جواب میں منتظر نے کارگل جنگ کے دنوں کا ایک واقعہ سنایا جو کہ پاکستان میں شاید کم لوگ اس صورتحال سے آگاہ ہیں کیونکہ یہاں الزام تراشیوں کے ماحول میں سچائی مدہم پڑ جاتی ہے۔

مقصود منتظر نے کہا جب مجاہدین نے کارگل کا محاذ گرم کیا اور اسے بعد میں اس طرف سے سکیورٹی فورسز کی مدد بھی ملی تو مقبوضہ کشمیر ، سری نگر اور کئی دیگر شہروں سے بھارتی فوج نے کیمپ اکھاڑ کر کشمیر سے نکلنا شروع کردیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے سوپور کے قریب بھارتی قابض فوج کا کیمپ ختم کیا گیا، وہی بھارتی جو ہم کشمیریوں پر زمین تنگ کئے ہوئے تھے جاتے ہوئے مقامی لوگوں سے کہہ رہے تھے ، کشمیریوں تمہاری جدوجہد رنگ لے آئی لگتا ہے اب کشمیر آزاد ہونے لگا ہے۔

یاد یاد یاد۔ بس یاد رہ جاتی ہے

انھوں نے کہا کہ وہ لمحہ کشمیریوں کےلئے امید کی ایک کرن بنا کہ اب آزادی کا وقت آگیا ہے پھر اس کے بعد ادھر کیا ہوا، حالات پھر کیسے تبدیل ہوئے مقامی لوگوں کو اس صورتحال کااندازہ نہیں ہے، میں بھی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا۔

مقصود احمد منتظر شاعر بھی ہیں ، سپورٹس مین بھی اور اچھے لکھاری بھی، وہ کہتے ہیں میں اس سچائی کو تسلیم کر چکا ہوں کہ میرا اب مقبوضہ کشمیرمیں واپسی کا کوئی ارادہ نہیں، میرے بچے یہاں خوش ہیں، منتظر نے مظفر آباد میں ایک کشمیری خاندان میں شادی کرلی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ والدین سے اور بہن بھائیوں سے فون پر رابطہ ہو جاتا ہے، ظاہر ہے میں والدین یا رشتہ داروں سے لا تعلق تو نہیں رہ سکتا ، مگر اب ہماری کشمیر کی تحریک یا آزادی کی بات نہیں ہوتی ، ایک دوسرے خریت پوچھتے ہیں ۔

امقصود احمد منتظر آفس میں کام کرتے ہوئے۔

مقصود منتظر ڈل جھیل ، درگاہ حضرت بل، سو پور کی شامیں ، زین گیر میں کرکٹ کھیلنا ، دوستوں کے ساتھ نہانا ، گھومنا اب بھی یاد کرتے ہیں،کہتے ہیں اب میں پاکستانی ہوں مگر سوپور کی یادوں کے سحر میں کبھی کبھی ڈوب جاتا ہوں، ظاہر ہے میرا پچپن ، جوانی ، والدین ہر تعلق تو سوپور سے وابستہ ہے۔

اسلام آباد میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے صحافت کررہے ہیں، ان کے تحریر پراثر، جملوں میں کاٹ اور تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے ان کو صحافتی حلقوں میں ممتازمقام حاصل ہوچکا ہے۔

جب ان سے فارغ وقت کی مصروفیات کےبارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فرصت کم ہی ملتی ہے، جب کچھ وقت مل جائے تو فیملی کے ساتھ مظفر آباد چلا جاتا ہوں جہاں میراسسرال بھی ہے، اس کے علاوہ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

 

BIG SUCCESS

تبصرے بند ہیں.