مشہورشاہ زیب قتل کیس کا ملزم شاہ رخ جتوئی سپریم کورٹ سے بری
فوٹو: فائل
اسلام آباد: مشہورشاہ زیب قتل کیس کا ملزم شاہ رخ جتوئی سپریم کورٹ سے بری کردیا گیا ،جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی نے فیصلہ دیا۔
جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا ۔
ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ کا موقف تھا کہ فریقین کے درمیان پہلے ہی راضی نامہ ہوچکا ہے،قتل کے واقعہ کو دہشتگردی کارنگ دیاگیا، ملزمان کا دہشت پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
لطیف کھوسہ کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا اور شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان کو بری کردیا۔
قتل کی یہ واردات25 دسمبر 2012 کو درخشاں تھانے کی حدود میں کی گئی تھی جب 20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں قتل کیاگیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج تالپور کو سزائے موت سنائی تھی جب کہ ملزم نواب سجاد اور غلام مرتضیٰ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بعد میں سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو عمرقید سنائی تھی جب کہ ملزمان نے عمرقید کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔
اس دوران ہی ملزم پارٹی نے کوششیں کرکے مقتول کی والدہ کو راضی نامہ پر آمادہ کردیا تھا جس پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔
تبصرے بند ہیں.